Indian admission of failed missile programme

Indian admission of failed missile programme

By newsadmin at 21 December, 2009, 11:10 pm

for many years indians facing set backs in success of its nuclear programme now they are admitting it publicly.



Related posts:

  1. آصف علی زرداری President Of Pakistan Asif Ali Zardari was part of Pakistan’s nuclear programme budget cuts
  2. Indian Nuclear Test WASN’T fully successful: Indian Scientist
  3. Jilted Karachi Women Saved Pakistan’s Nuclear-Programme

Categories : Videos | india politics

Comments
Loyal to Pakistan December 22, 2009

INDIA AN EPICENTRE OF TERRORISM – AN ACTOR OF VIOLENCE
بھارت کے ساتھ مذاکرات کی بے کار فکرمندی
ـ 3 گھنٹے 50 منٹ پہلے شائع کی گئی بھارت میں تعینات پاکستان کے ہائی کمشنر شاہد ملک نے بھارت کو باور کرایا ہے کہ اس نے مذاکرات بحال نہ کرکے شرم الشیخ اعلامیہ سے انحراف کیا ہے۔ گزشتہ روز ایک بھارتی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بارے میں بھارت کا رویہ روز بروز سخت ہوتا جا رہا ہے اور شرم الشیخ اعلامیہ بھارتی رویہ کی وجہ سے ہی التواء میں چلا گیا ہے۔ جبکہ بھارت کے منفی رویہ کے باعث انتہا پسند اور دہشت گرد مضبوط ہوئے ہیں۔ ان کے بقول دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کئی امورپر مسلسل رابطے میں ہیں مگر اس کے باوجود مذاکرات شروع نہیں ہو رہے۔ بھارت پاکستان سے مسلسل ’’ڈومور‘‘ کا مطالبہ کر رہا ہے مگر خود کچھ نہیں کر رہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ممبئی حملوں کے بارے میں بھارت نے کوئی ٹھوس شواہد نہیں دیئے جبکہ جماعت الدعوۃ کے حافظ سعید کو بھارت بلاوجہ ملوث کر رہا ہے۔
یقینا مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر ہی متنازعہ معاملات اور پیچیدہ مسائل کا حل ممکن ہوتا ہے مگر مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے پہلے یہ بھی تو طے ہونا چاہئے کہ کس ایشو پر مذاکرات ہونے ہیں۔ اگر ایک فریق اپنی ہٹ دھرمی کی بنیاد پر کسی ایشو کو ایشو اور کسی تنازعہ کو تنازعہ تسلیم کرنے پر آمادہ نہ ہو تو اس کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے بھی کیا حاصل ہوگا۔ پھر نہ جانے ہمارے حکمران اپنے ازلی اور مکار دشمن بھارت کے ساتھ مذاکرات کے شوق میں کیوں مبتلا ہو کر کیوں دبلے ہوتے جا رہے ہیں۔ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر اگر بھارت نے کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ ہی قراردینا ہے اور کشمیری عوام کے حق خودارادیت سے متعلق یو این قراردادوں کو کبھی خاطر میں نہیں لانا تو اس کے ساتھ مذاکرات مذاکرات کھیلنے سے کیا حاصل ہوگا۔ یہ حقیقت ہے کہ مکار ہندو بنیاء کہہ مکرنیوں میں یدطولیٰ رکھتا ہے۔ اس نے آج تک تخلیق پاکستان کو بطور حقیقت تسلیم و قبول ہی نہیں کیا اور اس کا خبث باطن ہمیشہ اس ملک خداداد کی سالمیت کو نقصان پہنچانے پر ہی مرکوز رہا ہے اس لئے اس کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر بھی خیر کی کیا توقع کی جاسکتی ہے جبکہ مذاکرات کے عمل کو بھارت نے ہمیشہ پاکستان کی کمزوری سے تعبیر کرتے ہوئے محض وقت گزاری کا ذریعہ بنایا ہے۔
جب یو این قراردادوں کے ذریعہ مسئلہ کشمیر کا قابل عمل حل طے کردیا گیا ہے تو اس مسئلہ کے حل کیلئے بھارت سے مذاکرات کی بھیک مانگنے کی کیا ضرورت ہے کیونکہ یہ مسئلہ تو بھارت خود اقوام متحدہ میں لے کر گیا تھا جس کی ریکوزیشن پر یو این جنرل اسمبلی نے قرارداد منظور کرتے ہوئے کشمیری عوام کے استصواب کے حق کو تسلیم کیا اور بھارت کو کشمیر میں رائے شماری کرانے کیلئے کہا مگر بھارت نے الٹا کشمیر پر بزور تسلط جما لیا اور نہتے کشمیری عوام بشمول بچوں اور عفت مآب خواتین پر ظلم و جبر کا وہ بازار گرم کیا کہ وہ تحریک آزادی چلانے پر مجبور ہوگئے۔ اگر کشمیری عوام نے یو این قراردادوں کی روشنی میں اپنے استصواب کے حق کیلئے شروع کی گئی جدوجہد بے بہا قربانیاں دے کر صبر و استقامت کے ساتھ گزشتہ ساٹھ برس سے جاری رکھی ہوئی ہے تو کیا بھارت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر مسئلہ کشمیر کا کوئی حل نکالنا اس عظیم جدوجہد کا نعم البدل ہوسکتا ہے؟ جبکہ مذاکرات کا ڈھونگ پاکستان سے الحاق کی تمنا رکھنے والے کشمیری عوام کی اس پرعزم جدوجہد کو کمزور بنانے اور انہیں پاکستان سے مایوس کرنے کے حوالے سے بھارت ہی کی ضرورت ہے، پھر بھی وہ ہمارے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے بدکتا ہے اور کسی نہ کسی حیلے بہانے سے یہ میز الٹا دیتا ہے، مگرہمارے حکمران چاہے وہ فوجی آمر ہوں یا سلطانی ٔ جمہور والے ہوں، ملک و ملت کے اس کمینے اور شاطر دشمن کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھانے اور اس کے ساتھ مذاکرات کا شوق پورا کرنے کیلئے ہمیشہ بے تاب نظر آتے ہیں۔ اگر تو بھارت یو این قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو استصواب کا حق دینے کے کسی فارمولے کو قابل عمل بنانے کیلئے مذاکرات پر آمادہ ہوتا ہے تو بے شک اس کے ساتھ مذاکرات کئے جائیں تاہم وہ کشمیر کو بھول جائو کا نعرہ لگا کر ہمارے ساتھ مذاکرات کی میز پر آتا ہے تو کیا یہ مذاکرات خطے میں اس کی تھانیداری قائم کرانے اور بالادستی تسلیم کرانے کیلئے کئے جائیں گے؟۔اس کے مادر پدر آزادہندوئوانہ کلچر کو فروغ دینے اور اپنی مارکیٹوں پراس کا تسلط قائم کرانے کیلئے کئے جائیں گے اور کیا یہ مذاکرات مکار ہندو بنیاء کو اسلامیان پاکستان سے اپنی ہزار سالہ غلامی کا مزید بدلہ لینے کا موقع فراہم کرنے کیلئے کئے جائیں گے۔ کیا بھارت آج تک اپنے کسی ایک وعدے یا اعلان پر قائم رہا ہے کہ اس پر پھر اعتبار کرلیا جائے جبکہ اس کی کوشش تو ہمیشہ پاکستان کی آزاد اور خودمختار حیثیت کو ختم کرانے اور دنیا کے نقشے سے اس کا نام مٹوانے کی رہی ہے جس کیلئے وہ اب تک ہم پر تین جنگیں مسلط کر چکا ہے، ایک گھنائونی سازش کے ذریعہ مشرقی پاکستان کو ہم سے الگ کر چکا ہے اور اب وہ باقیماندہ پاکستان کے بھی درپے ہے۔ اگر خدا کے فضل و کرم، قومی سیاسی قائدین کی بصیرت اور اپنے قابل فخر سائنسدانوں کی محنت شاقہ سے ہم ایٹمی قوت سے سرفراز نہ ہوتے تو ہمارا یہ موذی دشمن ہمیں کب کا ہڑپ کر چکا ہوتا۔ اب اسے ہماری جغرافیائی سرحدوں کی جانب آنکھ اٹھانے کی تو جرأت نہیں ہوتی مگر وہ آبی دہشت گردی کے ذریعے ہمارا پانی روک کر ہمیں بھوکا پیاسا مارنے اور ہماری زرخیز دھرتی کو ریگستان بنانے کی مذموم سازشوں کو ضرور عملی جامہ پہنانے میں مصروف ہے۔ ان سازشوں کی تکمیل وہ کشمیر پر بزور اپنا تسلط برقرار رکھ کے ہی کرسکتا ہے تاکہ ہماری شہ رگ اس کے خونی پنجہ میں جکڑی رہے۔ اس مقصد کیلئے اس نے نہتے کشمیری عوام کو دبا کے رکھنے کا کون سا حربہ اختیار نہیں کیا اور انہیں ہم سے بدگمان کرنے کیلئے کون سی کسر نہیں اٹھا رکھی، کشمیر میں عرصہ دراز سے تعینات اس کی سات لاکھ افواج نے وہاں انسانی ظلم و جبر کی اب تک بے شمار داستانیں رقم کی ہیں مگر پر عزم کشمیری عوام کے حوصلے پست نہیں کئے جاسکے۔ گزشتہ دنوں بھارتی وزیر داخلہ چدم برم نے یہ بڑ ماری کہ کشمیر سے 30 ہزار سے زائد بھارتی افواج واپس بلوائی گئی ہیں۔ میر واعظ عمر فاروق نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے کوئی ایک بھارتی فوجی بھی کشمیر سے واپس جاتے نہیں دیکھا۔
جس شرم الشیخ اعلامیہ کی پاسداری کا پاکستان کے ہائی کمشنر تقاضہ کر رہے ہیں، اس کی تو شرم الشیخ کانفرنس میں ہی بھد اڑا دی گئی تھی۔ ہندو بنیاء کے چیلے منحنی بھارتی وزیراعظم منموہن نے اس کانفرنس میں وزیراعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی کو یقین دلایا کہ وہ بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے فراہم کردہ ثبوتوں کی بنیاد پر کارروائی عمل میں لائیں گے۔ بھارت واپسی پر ہندو بنیاء کی جانب سے ان پر دبائو بڑھا اور انہیں ان کی’’اوقات‘‘ یاد دلائی گئی تو وہ لوک سبھا کے ایوان میں پاکستان کے ساتھ کئے گئے اس دعوے سے صاف مکر گئے۔ کیا اب ان سے یہ توقع رکھی جاسکتی ہے کہ ہمارے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر کئے گئے کسی وعدے کی پاسداری کی جائے گی۔ یہ موذی سانپ اور کچھ نہیں کرے گا، ہمیں صرف ڈنک مارنے کا فرض ہی پورا کرے گا۔ پھر ہمارے حکمرانوں کو بار بار اس سانپ سے ڈسوانے کا شوق کیوں چڑھا ہوا ہے۔
اندریں حالات ہمیں بھارت کو یہ باور کرانا چاہئے کہ جب تک وہ یو این قراردادوں کی روشنی میں کشمیری عوام کو استصواب کا حق نہیں دیتا، اس کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات ہوں گے نہ تجارت، البتہ کشمیری لیڈر شپ کے پاکستان آنے میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ہونی چاہئے۔ مقبوضہ کشمیر کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی کو اسلام آباد کی ایک کانفرنس میں شرکت کیلئے پاکستان کا ویزہ نہ دینا انتہائی افسوسناک ہے۔ صدرآصف علی زرداری کو اپنی اس کشمیری بہن کے ساتھ دفتر خارجہ کے’’ حسن سلوک‘‘ کا خودہی نوٹس لینا چاہئے اور انہیں فی الفور پاکستان کا ویزہ جاری کرانا چاہئے کیونکہ اخباری اطلاعات کے مطابق میر واعظ عمر فاروق نے بھی ویزہ نہ ملنے کے خدشہ کے باعث اپنا دورہ پاکستان مئوخر کردیا ہے۔ ہمارے قومی مفادات کا تو یہ تقاضہ ہے کہ بھارت سے مذاکرات کیلئے تڑپنے کے بجائے اپنے کشمیری بھائیوں کی جدوجہد کا ساتھ دیا جائے اور دانستہ یا نادانستہ ایسا کوئی اقدام نہ کیا جائے جس سے ہمارے بارے میں ان کی بدگمانیوں میں اضافہ ہوتا ہو۔ اس لئے قومی مفادات کو پیش نظر رکھیں اور اپنے موذی دشمن بھارت کو صاف جواب دے دیں۔

Leave a comment


Comments need to be approved and may take a while to appear.