Pakistan Nuclear Conspiracy ’’یوم تکبیر‘‘ اصل حقائق کیا ہیں؟

Pakistan Nuclear Conspiracy ’’یوم تکبیر‘‘ اصل حقائق کیا ہیں؟

By salmanit at 11 July, 2009, 6:45 am

ڈاکٹر محمد نذیر چودھری
why against nuclear pakistan’s conspiracy assets.Why Conspiracy against Pakistan’s Nuclear Assets And Dr AQ Khan


میں ’’نوائے وقت‘‘ کا ایک بہت پرانا قاری ہوں۔ حمید نظامی مرحوم کے زمانے سے اور تحریک پاکستان کا ایک ادنیٰ سا کارکن، میں آپ کی ایڈیٹوریل پالیسی کا بہت بڑا مداح ہوں اور آپ کے اس مطالبے کی پرزور تائید کرتا ہوں کہ ’’یوم تکبیر‘‘ ہمارے نصاب تعلیم کا حصہ ہونا چاہئے اور ہمیں اپنی نئی نسل کو ضرور بتانا چاہئے کہ ہمارا ایٹمی پروگرام کیسے پایہ تکمیل تک پہنچا اور کن کن ماہرین سائنسدانوں، انجینئرز اور ٹیکنیشنز کی شب و روز کی جدوجہد کے بعد ہم یہ مقام حاصل کر سکے ہیں یہ سوال بھی بڑا اہم ہے کہ یہ جانا جائے کہ وہ کون لوگ تھے کہ جنہوں نے اس پروگرام کو آگے بڑھانے میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔ آپ نے اپنے 21 جون کے ایڈیٹوریل نوٹ میں جن چند ناموں کی نشاندہی کی ہے ان میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نام البتہ محلِ نظر ہے۔ ڈاکٹر صاحب موصوف 28-5-1998ء کے دن چاغی کے مقام پر محض ایک مہمان کے طور پر موجود تھے ان کا اس دن اور بعد کے دھماکوں سے کوئی تعلق نہیں تھا وہ سارا معرکہ ڈاکٹر ثمر مبارک مند اور انکی ٹیم کے سائنسدانوں انجینئرز اور ٹیکنیشنز کی جدوجہد کا نتیجہ تھا۔

اب تو اس موضوع پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے گوہر ایوب خان بھی اپنے تاثرات رقم کر چکے ہیں۔ اصل واقعہ یہ ہے کہ 13 مئی 1998ء کو اس وقت کے وزیراعظم میاں نوازشریف نے وسط ایشیا (الماتی) کے دورے سے واپس آنے کے فوراً بعد اپنی کابینہ کی دفاعی کمیٹی کی میٹنگ بلائی جس میں اور لوگوں کے علاوہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ڈاکٹر ثمر مبارک مند بھی موجود تھے۔ڈاکٹر اشفاق احمد جو ان دنوں پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کے چیئرمین تھے چند دن کیلئے ملک سے باہر گئے ہوئے تھے اسلئے ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے ایٹمی توانائی کمیشن کی نمائندگی کی تھی۔ نوازشریف نے سب سے پہلے ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے پوچھا تھا کہ ہم اپنا ایٹمی دھماکہ کتنے دنوں میں کر سکتے ہیں تو ڈاکٹر قدیر کوئی جواب نہ دے سکے تھے اور اس پر ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے کہا تھا کہ یہ کام انہوں نے ہی یعنی پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن نے ہی کرنا ہے اور پھر وہیں اسی میٹنگ میں28 مئی کی تاریخ بھی طے پائی تھی اس کام کیلئے۔
دھماکہ ہو جانے کے بعد ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ’’نوائے وقت‘‘ کی ٹیم کو 30-5-1998ء کو ایک لمبا چوڑا بیان دیا تھا (جو اگلے دن یعنی 31-5-1998ء کو چھپا تھا) کہ یہ سارا کارنامہ انہی کی کوششوں کا نتیجہ تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ دھماکہ ڈاکٹر ثمر مبارک مند کی سربراہی میں پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کے سائنسدانوں، انجینئرز اور ٹیکنیشنز کی اجتماعی کاوشوں کا نکتہ معراج تھا۔ ڈاکٹر قدیر خان کی اس انٹرویو میں کہی گئی باتوں کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں تھا۔ اصل میں یہ پروگرام بھٹو مرحوم نے جنوری 1972ء میں منیر احمد خان مرحوم کو پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کی سربراہی میں سونپ کر شروع کروایا تھا۔ منیر احمد مرحوم اس وقت وی اینا آسٹریا (Vienna Austria) میں عالمی توانائی ایجنسی I A E A میں نیو کلیئر ریکٹر ڈویژن Nurlear Reactor Division کے انچارج تھے اور بھٹو مرحوم سے انکی دوستی انکے بڑے بھائی شیخ خورشید احمد مرحوم کی وساطت سے اکتوبر 1965ء کے زمانے سے تھی۔ (بھٹو اور شیخ خورشید احمد دونوں ایوب خان کی وزارت میں شامل تھے) منیر احمد خان مرحوم نے آتے ہی ایٹمی توانائی کمیشن کی تشکیل نو کی اور کئی نئے شعبے شروع کروائے۔ یورینیم کی افزودگی کیلئے کہوٹہ ریسرچ پروجیکٹ 1974-75ء میں شروع کیا گیا اور سلطان بشیر الدین محمود اسکے پہلے سربراہ بنے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے بھٹو صاحب کو ہالینڈ سے خط لکھ کر پاکستان کے ایٹمی پروگرام میں کام کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی تو بھٹو مرحوم نے وہ خط پاکستان ایٹمی کمیشن کے چیئرمین منیر احمد مرحوم کو بھیج دیا تھا اور منیر احمد کے کہنے پر ہی بشیر الدین محمود نے ہالینڈ میں ڈاکٹر قدیر خان کا انٹرویو لیا تھا اور 1976ء میں ڈاکٹر قدیر خان نے پاکستان آنے کے بعد بشیر صاحب کے گھر پر ہی چند ماہ قیام کیا تھا اور بشیر صاحب کیساتھ ہی انکی سربراہی میں کہوٹہ پروجیکٹ میں کام شروع کیا تھا۔
منیر احمد خان مرحوم نے 1974-75ء میں ہی چار پانچ بڑے گروپ بنا دیئے تھے ایٹم بم بنانے کیلئے اور پانچ سال کے قلیل عرصے میں یعنی 1979ء تک نیو کلیئر فیول سائیکل (Nuclear fuel Cycle) (کہ جس میں یورینیم افزودگی (Ensichreat) صرف دسواں حصہ ہے ) کے تمام مراحل مکمل کر لئے گئے تھے۔ شیام بھائیہ نے اپنی تصنیف ’’الوداع شہزادی‘‘ (Good bye shahzadi) میں بے نظیر بھٹو کی زبانی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن 1979ء تک نیو کلیئر بم بنانے کی صلاحیت حاصل کر چکا تھا اور یہی وجہ ہے کہ اگلے سال یعنی 1980ء میں چاغی کی سرنگیں بھی تیار کی جا چکی تھیں اور پھر اسی تیاری کے سلسلے میں 1983ء (11-3-1983) سے لیکر 1990ء تک مختلف جگہوں پر چوبیس بموں کے کولڈ ٹیسٹ(Cold tests) کئے گئے اور بالآخر 28-5-1998ء (اور بعد میں 30-5-1998) کا دھماکہ اس سلسلے کی آخری کڑی تھی کہ جس میں ایٹمی اسلحہ یعنی بم اصلی (Live) حالت میں استعمال کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنے تئیں نیو کلیئر بم بنانے کی بڑی کوشش کی اور برادر ملک چین سے ایک نمونہ (Design) بھی حاصل کر لیا تھا لیکن وہ اپنے مقصد کو پایہ تکمیل تک نہ پہنچا سکے۔ وہ یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ انہوں نے ایک کولڈ ٹیسٹ بھی کر لیا تھا۔ 1984ء میں اور بم بھی بنا لیا تھا لیکن پھر بعد میں کیا ہوا؟ مزید ٹیسٹ کیوں نہیں کئے گئے اور وہ بم کہاں پڑا ہے؟ ڈاکٹر صاحب موصوف ایٹم بم کیا بناتے وہ تو میزائل پروگرام کو بھی آگے نہ بڑھا سکے اور سارے کا سارا میزائل پروگرام بھی ڈاکٹر ثمر مبارک مند کے ادارے Nescom کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان تعلقات عامہ میں بہت ماہر تھے اور انکے ’’کارنامے‘‘ اسی مہارت کا نتیجہ ہیں وہ پیشے کے لحاظ سے ایک میٹلرجسٹ Metallurgist تھے اور ایٹمی شعبے میں ان کا تجربہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ وہ کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز کے انتظامی سربراہ تھے (یہ سربراہی انہوں نے کیسے حاصل کی تھی یہ ایک الگ داستان ہے ) اور اسی حیثیت سے انہوں نے ایٹمی ٹیکنالوجی کئی ممالک کو فروخت کی لیکن جہاں تک یورینیم کی افزودگی کا تعلق ہے تو یہ کام ایسے لوگ کرتے رہے جو سارے کے سارے پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کے ملازم تھے یا وہیں سے تربیت لے کر آئے تھے مثلا ڈاکٹر جی، ڈی عالم، انور علی، اعجاز کھوکھر، ڈاکٹر اشرف عطا وغیرہ۔ ڈاکٹر جی۔ ڈی عالم (غلام دستگیر عالم) نے جو کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز میں اسی کی دہائی کے شروع میں یورینیم افزودگی کے شعبے کے سربراہ تھے‘ 10-6-1998 ء کو لاہور کے ایک اردو اخبار کو دیئے گئے‘ اپنے انٹرویو میں کھلے لفظوں میں لکھا ہے کہ ڈاکٹر قدیر خان نے پاکستان آنے سے پہلے سنٹری فیوجز کو کام کرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا اور نیز یہ بھی کہ جو ڈرائینگز سنٹری فیوجز کی ڈاکٹر قدیر اپنے ہمراہ یہاں لائے تھے‘ وہ نامکمل تھیں اور انہیں یہاں کے سائنسدانوں نے مکمل کیا اور چلایا بھی ان ڈارائنگز Drawings کی پوری تفصیل گارڈن کودیرا Gordon corera نے اپنی کتاب Shopping for Bomb میں بیان کر دی ہے۔ یہ کتاب اس لحاظ سے بھی بڑی اہم ہے کہ اس میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے اصلی ’’کارناموں‘‘ یعنی ایٹمی توانائی کے پھیلاؤ Nuclear proliferation میں اے کیو خان نیٹ ورک کا پوری تفصیل سے تذکرہ لکھا ہے۔
اس کتاب کے علاوہ بھی بہت سی کتائیں اس موضوع پر شائع ہو چکی ہیں جن میں تین چار تو بہت ہی اہم ہیں مثلاً لندن کی انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجنگ سٹڈیز IISS کی کتاب ’’نیو کلیئر بلیک مارکیٹ‘‘ Nuclear Black Market (Pakistan ,A,Q,Khan and the Rise of Prolifcration Networks) دوسری کتاب ایڈرین لیوی اور کیتھرین سکاٹ کلارک کی “Deception Pakistan, the U.S.and the Global Nuclear weapons Conspisacy” اور ایک اور کتاب ڈوگلس فرانٹز اور کیتھرین کولنز کی Nuclear Jihaist ڈاکٹر قدیر خان کی رائے میں یہ مغربی مصنیفین کی بکواس ہے (Western garbage) لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر مصنفین نے اپنے مضامین کی تیاری کیلئے ایسے لوگوں سے معلومات حاصل کی ہیں جو کسی نہ کسی وقت ڈاکٹر صاحب کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔ لہٰذا ان کتب سے صرف نظر کرنا ممکن ہی نہیں ہے اور پھر یہ حقیقت بھی ہم سب کو ماننا پڑیگی کہ ڈاکٹر صاحب کی کارروائیوں کی وجہ سے ساری دنیا میں پاکستان کی بڑی بدنامی ہوئی ہے اور حد یہ ہے کہ پاکستان کو ایک غیر ذمہ دار ریاست سمجھا جانے لگا ہے اسکی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اگرچہ ایٹمی پھیلاؤ اور ایٹمی ٹیکنالوجی کی دوسرے ممالک کو منتقلی کے کاروبار میں پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کا کوئی اہلکار شامل نہیں تھا لیکن اسکے باوجود چونکہ ڈاکٹر قدیر خان نے اپنی تشہیری مہم کے ذریعے خود کو پاکستان کے نیو کلیئر پروگرام کے خالق کے طور پر منوانا شروع کر دیا تھا اس لئے مغربی دنیا کے اکثر مصنیفین (خصوصاً امریکی مصنیفین) نے یہ پروپیگنڈا شروع کر دیا کہ پاکستان کے ارباب اقتدار بھی اس گھناؤنے دھندے میں ملوث ہیں ۔ یہاں یہ بات سمجھنا بہت ضروری ہے کہ 1974ء کے بھارت کی طرف کئے گئے ایٹمی دھماکے کے بعد پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو روکنے کیلئے مغربی دنیا نے پاکستان پہ کئی طرح کی بہت سی پابندیاں عائد کر دی تھیں اور اسی لئے پاکستان کا ایٹمی توانائی کمیشن اپنے سارے کام بڑی خاموشی اور رازداری سے کرنے کی پالیسی اپنائے ہوئے تھا‘ لیکن ڈاکٹر قدیر خان نے اس رازداری Confidentiality کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کمیشن کے تکمیل شدہ منصوبے اپنے نام منسوب کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ۔ حتیٰ کہ پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کے خالق بن بیٹھے اس غلط تاثر کو دور کرنے کیلئے یہ نہایت ضروری ہے کہ باقی دنیا کو بلکہ پاکستانی عوام کو یہ بتایا جائے کہ ہمارے ایٹمی پروگرام کے اصل خالق کون ہیں اور کن کن سائنسدانوں، انجینئرز اور ٹیکنیشنز نے اسکی آبیاری کی۔ اصل میں ایٹمی پروگرام ایک بڑا ٹیکنیکل مسئلہ ہے اور اس میں بہت سے اہم مراحل کو عبور کرنا ضروری ہوتا ہے۔ مختصراً عرض ہے کہ یورینیم دھات کی Mining اور Milling اور پھر صفائی یعنی Refinement وغیرہ کا کام کرنے کے بعد اسے Yellow cake میں تبدیل کیا جاتا ہے جسے بعد میں گیس کی شکل میں تبدیل کر دیا جاتا ہے یعنی یورینیم ہکسا فلورائڈ (Uranium hexafluoride کہ جس کے بغیر یورینیم کی افزودگی ممکن ہی نہیں ہو سکتی ساتھ ہی ساتھ یورینیم ڈائی آکسائیڈ کی راڈز بنا کر ایٹمی بجلی گھر کیلئے ایندھن کے طور پر تیار کیا جاتا ہے۔ ایٹمی ہتھیار بنانے کیلئے یورینیم کی زیادہ حد تک افزودگی کی ضرورت ہوتی ہے اور یہاں بھی گیسUFB کو دھات یعنی Metal کی شکل میں تبدیل کرنا پڑتا ہے اور انہی Metallic rods کو ہتھیاروں میں استعمال کرنے کیلئے موزوں بنایا جاتا ہے اور آخر میں ایٹمی ہتھیاروں کو چلانے کیلئے Trigger mechanisim اور Implosion device تیار کی جاتی ہے‘ اس سارے پروسیس میں صرف UF6 یعنی یورینیم ہیکسا فلورائیڈ کی 90 فیصد تک افزودگی کہوٹہ میں کی جاتی تھی باقی تمام مراحل پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کے زیر اہتمام چلنے والے اداروں میں پایہ تکمیل تک پہنچتے تھے اور اب تو پلیوٹیونیم Plutoninm کی دستیابی کے بعد کے بعد کہ جو استعمال شدہ ایٹمی ایندھن سے حاصل ہو جاتی ہے یورینیم کی زیادہ حد تک افزودگی کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ ان تمام مراحل کی تکمیل کو عام فہم الفاظ میں نیوکلیئر فیول سائیکل کی تکمیل سمجھا جاتا ہے اور یہ سارے کا سارا کام پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن نے منیر احمد خان مرحوم (جو 1972ء سے 1991ء تک اسکے چیئرمین رہے) کی سربراہی میں 1979ء میں ہی مکمل کر لیا تھا اس لئے ہم بلاخوف تردید یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے ایٹمی پروگرام کے اصل معمار (Architect)منیر احمد خان مرحوم ہی تھے کہ جن کی نگرانی میں نہ صرف نیو کلیئر فیول سائیکل کے تمام مراحل مکمل ہوئے بلکہ چوبیس Cold test کئے گئے (کہ جن میں افزودہ کی بجائے نیچرل یورینیم استعمال کی جاتی ہے) چاغی کی سرنگیں تیار کی گئیں جہاں بعد میں مئی 1998ء میں ایٹمی دھماکے کئے گئے ڈی جی کیمیکل کمپلیکس کی توسیع کی گئی۔ خوشاب ری ایکٹر کی بنیاد رکھی گئی اور چشمہ نیوکلیئر پلانٹ لگانے کا برادر ملک چین سے معاہدہ کیا گیا اور اس اہم شعبے میں خود انحصاری کیلئے ماہرین کی مٹریننگ کا جامع منصوبہ تیار کیا گیا اور نیو کلیئر سٹڈیز کے سنٹر کو یونیورسٹی درجہ دیا گیا لیکن اسکے ساتھ ساتھ یہ بھی یاد رہے کہ یہ سارے کے سارے کام منیر احمد خان مرحوم نے اپنے 19 سالہ دور چیرمینی میں اکیلے ہی نہیں کئے تھے بلکہ انکے ساتھ ایک بہت بڑی ٹیم تھی۔
سائنسدانوں، انجینئرز اور ٹیکنیشنز کی کہ جو سب کے سب اس پروگرام میں برابر کے شریک تھے وہ اصل میں ایک مثالی گروپ تھا جسے ہم ڈریم ٹیم بھی کہہ سکتے ہیں ان میں سے ہر ایک اپنے شعبے میں ماہر تھا اور منفرد تھا۔ ان میں سے کسی نے بھی نہ تو اپنے بارے میں توصیفی و تعریفی مضامین چھپوائے اور نہ کوئی تشہیری مہم چلائی اور نہ ہی کوئی لمبی چوڑی جائیدادیں بنائیں ان میں کچھ تو اب ہم میں نہیں ہیں اور اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں۔ منیر احمد خان مرحوم سب سے پہلے ہم سے رخصت ہوئے۔ اپریل 1999ء میں مجھے اس وقت ڈاکٹر غلام دستگیر عالم (جی ڈی عالم) یاد آ رہے ہیں ۔ جناب حفیظ قریشی بھی اور جناب عبدالمجید بھی اور ڈاکٹر یونس بھی اور شفیق بٹ بھی یہ سب کے سب بڑے عظیم لوگ تھے اور صحیح معنوں میں ہمارے Unsung heroes تھے ۔ خدا انہیں اپنی جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ (آمین)
یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ بالکل اسی طرح کے بہت سے لوگ اب بھی ہم میں موجود ہیں اور ہماری دلی دعا ہے کہ خدا ان سب کو سلامت رکھے ان میں جن لوگوں کے نام اس وقت میرے ذہن میں آر ہے ہیں ان میں سلطان بشیر الدین محمود، ڈاکٹر ثمر مبارک مند، ڈاکٹر اشفاق احمد، پروفیسر ڈاکٹر ریاض الدین، ڈاکٹر نعمت علی جاوید، جناب پرویز بٹ، جناب انور علی اور دیگر کئی لوگ ہیں جو ہمارے محسنان پاکستان ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان سب کی خدمات اور احسانات کا اعتراف کیا جائے اور انہیں سرکاری طور پر اعزازات سے نوازا جائے۔ اس سلسلے میں میری میڈیا سے وابستہ تمام احباب سے درخواست ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام حقائق کو صحیح تناظر میں عوام کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ عام لوگ بھی صحیح اور غلط سچ اور جھوٹ میں تمیز کر سکیں۔ ویسے بھی تاریخی حقائق کو زیادہ عرصے تک نہ تو جھٹلایا جا سکتا ہے اور نہ ہی مسخ کیا جا سکتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس موضوع کے تمام پہلوؤں پہ کھلے عام بحث مباحثہ کا اہتمام کیا جائے اور اگر ممکن ہو تو ڈاکٹر ثمر مبارک مند اور سلطان بشیر الدین محمود سے تفصیلی بریفنگ لی جائے بلکہ باقی دنیا کی طرح ہماری یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں میں بھی اس موضوع پر تحقیقی کام شروع کروایا جائے اب تو کوئی بات بھی چھپی نہیں رہ سکتی۔

Share This Post
Categories : Articles


Trackbacks & Pingbacks

Comments
Leave a comment


Comments need to be approved and may take a while to appear.